کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جرائم (گناہوں اور ظلم و تعدّی) کا بیان - ذکر منع کہ انسان اسے قتل کرے جسے اس نے اس کے خون پر امان دی ہو
حدیث نمبر: 5982
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ ، عَنْ رِفَاعَةَ الْفِتْيَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ أَمِنَ رَجُلا عَلَى دَمِهِ ثُمَّ قَتَلَهُ ، فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ ، وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا " ، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ : فِتْيَانُ بَطْنٌ مِنْ بَجِيلَةَ ، وَقِتْبَانُ سَكَنُهُ بِمِصْرَ .
سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جو شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جان کے حوالے سے امان دے اور پھر اسے قتل کر دے، تو میں قتل کرنے والے شخص سے بری ہوں خواہ مقتول شخص کافر ہو۔ “ شیخ ابوحاتم بیان کرتے ہیں: فقتیان، بجیلہ قبیلے کی ایک شاخ ہے اور قتبان (قبیلے کے لوگ) مصر میں رہتے ہیں۔