کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر بیان کہ فتنوں کے وقوع پر انسان کو عزلت اور سکون اختیار کرنا چاہیے خواہ فتنہ اس پر آجائے
حدیث نمبر: 5960
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، كَيْفَ تَفْعَلُ إِذَا جَاعَ النَّاسُ حَتَّى لا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكِ إِلَى مَسْجِدِكَ ؟ " فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " تَعَفَّفْ " ، ثُمَّ قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا مَاتَ النَّاسُ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْوَصِيفِ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " تَصْبرُ " ، ثُمَّ قَالَ : " كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا اقْتَتَلَ النَّاسُ حَتَّى يَغْرَقَ حَجَرُ الزَّيْتِ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " تَأْتِي مَنْ أَنْتَ فِيهِ " ، فَقُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ أَتَى عَلَيَّ ؟ قَالَ : " تَدْخُلُ بَيْتَكَ " ، قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ أَتَى عَليَّ ؟ قَالَ : " إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ ، فَأَلْقِ طَائِفَةَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ ، يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ " ، فَقُلْتُ : أَفَلا أَحْمِلُ السِّلاحَ ؟ قَالَ : " إِذًا تَشْرَكُهُ " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابوذر! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب لوگوں میں بھوک عام ہو گی، یہاں تک کہ تم اس بات کی استطاعت بھی نہیں رکھو گے کہ اپنے بچھونے سے اٹھ کر مسجد تک جا سکو۔ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بچنے کی کوشش کرنا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ مر جائیں گے، یہاں تک کہ گھر (یعنی قبر کی جگہ) خادم کے عوض میں ملے گی، ہو گا۔ میں نے عرض اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم صبر سے کام لینا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی کریں گے، یہاں تک کہ حجر زیت کا مقام (خون میں) ڈوب جائے گا، میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس جگہ پر رہنا جہاں تم رہتے ہو (یعنی باہر نہ نکلنا) میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے اگر وہ پھر بھی مجھ تک پہنچ جائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے گھر کے اندر چلے جانا۔ میں نے عرض کی: اگر وہ پھر میرے تک پہنچ گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں پریشان کر دے گی، تو تم اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا وہ شخص تمہارے اور اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا۔ میں نے عرض کی: کیا میں اس پر ہتھیار نہ اٹھاؤں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس صورت میں تم بھی اس کے برابر ہو جاؤ گے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرهن / حدیث: 5960
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (8/ 100 / 2451)، وسيأتي (6650). تنبيه!! رقم (6650) = (6685) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5929»