کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فتنوں کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر منع کہ انسان لوگوں کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے کنکر پھینکے
حدیث نمبر: 5949
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلا يَخْذِفُ ، قَالَ : لا تَخْذِفْ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْخَذْفِ ، أَوْ قَالَ : كَرِهَ الْخَذْفَ ، وَقَالَ : إِنَّهُ لا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ ، وَلا يُنْكَأُ بِهِ عَدُوٌّ ، وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ ، وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ " ، ثُمَّ رَآهُ يَخْذِفُ فَقَالَ : أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَنْتَ تَخْذِفُ ؟ ! لا أُكَلِّمُكَ كَذَا وَكَذَا .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا تم کنکریاں نہ مارو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں مارنے سے منع کیا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں مارنے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اس کے ذریعے کوئی شکار نہیں کیا جا سکتا اس کے ذریعے دشمن کو نہیں مارا جا سکتا اس کے ذریعے صرف دانت توڑا جا سکتا ہے اور آنکھ کو پھوڑا جا سکتا ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، تو فرمایا میں نے تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے اور تم پھر کنکریاں مار رہے ہو۔ میں تم سے اتنے، اتنے عرصے تک کبھی بات نہیں کروں گا۔