کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ ہمارے ذکر کردہ خبر موہوم ہے
حدیث نمبر: 5893
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، يُخْبِرُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ جَارِيَةً لَهُمْ كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ ، فَرَأَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ ، فَقَالَ لأَهْلِهِ : لا تَأْكُلُوا مِنْهُ حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ جَارِيَةً لَنَا كَانَتْ تَرْعَى بِسَلْعٍ ، فَأَبْصَرَتْ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا مَوْتًا ، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهَا " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْخَبَرُ عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ .
نافع بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے کو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ بتاتے ہوئے سنا: ان کے والد (یعنی سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) نے انہیں بتایا: ان کی ایک کنیز تھی جو ” سلع “ پہاڑ کے پاس بکریاں چرا رہی تھی اس نے اپنی بکریوں میں سے ایک بکری کو مرنے کے قریب دیکھا تو ایک پتھر توڑ کر اس کے ذریعے اسے ذبح کر لیا پھر سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں سے کہا: تم اس کا گوشت اس وقت تک نہ کھاؤ جب تک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت نہ کر لوں تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہماری ایک کنیز ” سلع “ پہاڑ کے پاس بکریاں چرا رہی تھی اس نے ان بکریوں میں سے ایک بکری کو قریب مرگ دیکھا تو پھر توڑ کر اس کے ذریعے اسے ذبح کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس (بکری) کا گوشت کھانے کی اجازت دی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت نافع کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اور نافع کے حوالے سے سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے بھی منقول ہے تو اس کے تمام طرق محفوظ ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الذبائح / حدیث: 5893
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» -أيضا-: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5863»