کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر بیان کہ جو چیز لوہے کے علاوہ سے ذبح کی جائے اور اس پر اللہ کا نام پڑھا جائے اسے کھانا جائز ہے سوائے دانت اور ناخن کے
حدیث نمبر: 5886
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ ، وَأَصَبْنَا إِبِلا وَغَنَمًا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ ، فَعَجِلُوا فَذَبَحُوا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ ، فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقُدُورِ فَأُكْفِئَتْ ، ثُمَّ قَسَمَ ، فَعَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِبَعِيرٍ ، فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ ، فَطَلَبُوهُ فَأَعْيَاهُمْ ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذِهِ الْبَهَائِمَ لَهَا أَوَابِدُ كَأَوَابِدِ الْوحُوشِ ، فَمَا نَدَّ عَلَيْكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا " ، وَقَالَ جَدِّي : إِنَّا نَرْجُو أَنْ نَلْقَى غَدًا عَدُوًّا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى ، فَنَذْبَحُ بِالْقُضُبِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنْهَرَ الدَّمُ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ ، أَمَا السِّنُّ فَعَظْمٌ ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ " ، فِي هَذَا الْخَبَرِ كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْبَدَنَةَ تَقُومُ عَنْ عَشْرَةٍ عِنْدَ النَّحْرِ قَالَهُ الشَّيْخُ .
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ذوالحلیفہ میں موجود تھے لوگوں کو بھوک لاحق تھی ہمیں کچھ اونٹ اور بکریاں ملے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے کچھ پیچھے تشریف لا رہے تھے لوگوں نے جلدی سے انہیں ذبح کیا اور ہنڈیا چڑھا دیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ہنڈیا الٹا دی گئیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تقسیم کرنا شروع کیا تو دس بکریاں ایک اونٹ کی جگہ ایک آدمی کے حصے میں آئیں ان میں سے ایک اونٹ سرکش ہو گیا لوگوں کے پاس گھوڑے کم تھے وہ لوگ اس اونٹ کے پیچھے بھاگے، لیکن تھک گئے (اور اسے پکڑ نہ سکے) ایک شخص نے اپنا تیر اسے مار کر اسے رکنے پر مجبور کر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان جانوروں میں بھی بعض جانور وحشی جانوروں کی طرح سرکش ہوتے ہیں ان میں سے جو سرکش ہو جائے تم اس کے ساتھ یہی طرز عمل اختیار کرو۔
(راوی بیان کرتے ہیں) میرے دادا نے یہ عرض کی: ہمیں یہ امید ہے ہم کل دشمن سے سامنا کریں گے ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، تو کیا ہم بانس کے ذریعے ذبح کر لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو چیز خون کو بہا دے اور جس چیز کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو تو تم اسے کھا لو ماسوائے اس کے جسے ہڈی کے ذریعے ذبح کیا جائے یا جسے حبشیوں کی مخصوص چھری کے ذریعے ذبح کیا جائے۔
(راوی کہتے ہیں:) میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں لفظ ” سن “ سے مراد ہڈی ہے اور لفظ ” ظفر “ سے مراد حبشیوں کی مخصوص چھری ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے ایک اونٹ قربانی میں دس آدمیوں کی طرف سے کافی ہوتا ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔
(راوی بیان کرتے ہیں) میرے دادا نے یہ عرض کی: ہمیں یہ امید ہے ہم کل دشمن سے سامنا کریں گے ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، تو کیا ہم بانس کے ذریعے ذبح کر لیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو چیز خون کو بہا دے اور جس چیز کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو تو تم اسے کھا لو ماسوائے اس کے جسے ہڈی کے ذریعے ذبح کیا جائے یا جسے حبشیوں کی مخصوص چھری کے ذریعے ذبح کیا جائے۔
(راوی کہتے ہیں:) میں تمہیں اس بارے میں بتاتا ہوں لفظ ” سن “ سے مراد ہڈی ہے اور لفظ ” ظفر “ سے مراد حبشیوں کی مخصوص چھری ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے ایک اونٹ قربانی میں دس آدمیوں کی طرف سے کافی ہوتا ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔