کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - ذکر حکم کہ چاقو تیز کیا جائے اور جو ذبح کرنا چاہے اس میں نرمی برتی جائے
حدیث نمبر: 5883
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ " .
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دو باتیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یاد رکھی ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:) ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ اچھائی کرنے کو لازم قرار دیا ہے تو جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو، تو اچھے طریقے سے ذبح کرو تمہیں اپنی چھری کو تیز کر لینا چاہئے اور اپنے ذبیحہ کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہئے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الذبائح / حدیث: 5883
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (7/ 292)، «صحيح أبي داود» (2506): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5853»