کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - ذکر اس حکم کا جو اس شخص کے لیے ہے جس نے شکار کیا اور وہ اس کے جال سے نکل گیا اور دوسرے نے اسے پکڑ لیا
حدیث نمبر: 5882
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَوَّلٍ الْبَهْزِيَّ ثُمَّ السُّلَمِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالإِسْلامَ ، يَقُولُ : " نَصَبْتُ حَبَائِلَ لِي بِالأَبْوَاءِ ، فَوَقَعَ فِي حَبْلِي مِنْهَا ظَبْيٌ ، فَأَفْلَتَ بِهِ ، فَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ ، فَوَجَدْتُ رَجُلا قَدْ أَخَذَهُ ، فَتَنَازَعْنَا فِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْنَاهُ نَازِلا بِالأَبْوَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ يَسْتَظِلُّ بِنِطَعٍ ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَيهِ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا شَطْرَيْنَ " . قُلْتُ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَلْقَى الإِبِلَ ، وَبِهَا لَبُونٌ ، وَهِيَ مُصَرَّاةٌ ، وَهُمْ مُحْتَاجُونَ ، قَالَ : " فَنَادِ صَاحِبَ الإِبِلِ ثَلاثًا ، فَإِنْ جَاءَ ، وَإِلا فَاحْلُلْ صِرَارَهَا ، ثُمَّ اشْرَبْ ، ثُمَّ صُرَّ ، وَأَبْقِ لِلَّبَنِ دَوَاعِيَهُ " . قُلْتُ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الضَّوَالُّ تَرِدُ عَلَيْنَا ، هَلْ لَنَا أَجْرٌ أَنْ نَسْقِيَهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ " . ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا ، قَالَ : " سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، خَيْرُ الْمَالِ فِيهِ غَنَمٌ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ ، تَأْكُلُ مِنَ الشَّجَرِ ، وَتَرِدُ الْمَاءَ ، يَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْ رِسْلِهَا ، وَيَشْرَبُ مِنْ لِبَانِهَا ، وَيَلْبسُ مِنْ أَصْوَافَهَا ، أَوْ قَالَ : مِنَ أَشْعَارِهَا ، وَالْفِتَنُ تَرْتَكِسُ بَيْنَ جَرَاثِيمِ الْعَرَبِ ، وَاللَّهِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " أَقِمِ الصَّلاةَ ، وَآتِ الزَّكَاةَ ، وَصُمْ رَمَضَانَ ، وَحُجَّ الْبَيْتَ ، وَاعْتَمِرْ ، وَبِرَّ وَالِدَيْكَ ، وَصِلْ رَحِمَكَ ، وَاقْرِ الضَّيْفَ ، وَمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ زَالَ " .
قاسم بن مخول بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا انہیں زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے وہ بیان کرتے ہیں: میں نے ابواء کے مقام پر کچھ رسیاں باندھ دیں ان رسیوں میں ایک ہرن پھنس گیا پھر وہ وہاں سے نکل گیا میں اس کی تلاش میں نکلا تو مجھے ایک شخص ملا جس نے اسے پکڑ لیا تھا ہم اس ہرن کے بارے میں اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے آپ کو ابواء میں ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیے ہوئے پایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کے ٹکڑے کے ذریعے سایہ کیا ہوا تھا ہم نے اپنا مقدمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے یہ فیصلہ دیا کہ وہ ہم دونوں کے درمیان برابر تقسیم ہو گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بعض اوقات ہمیں کچھ اونٹ ملتے ہیں جن میں دودھ والی اونٹنیاں بھی ہوتی ہیں جن کے تھنوں میں دودھ رکا ہوا ہوتا ہے اور ہمیں اس کی شدید ضرورت بھی ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تین مرتبہ اونٹوں کے مالک کو پکارو اگر وہ آ جائے تو ٹھیک ہے ورنہ اس کا دودھ دوہ کر پی لو اور پھر دوہ لو اور پھر کچھ دودھ (اس کے تھنوں میں) باقی رہنے دو۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بعض اوقات کوئی دوسرا جانور ہمارے پاس آ جاتا ہے تو اگر ہم اسے کچھ پلاتے ہیں تو کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں ہر جاندار کے ساتھ (اچھائی کرنے کا اجر ملتا ہے) پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ بات چیت کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ جب سب سے بہترین مال بکریاں ہوں گی جو دو سجدوں کے درمیان ہوں گی وہ درختوں سے (پتے) کھا لیں گی پانی تک آ جائیں گی ان کا مالک کے پیچھے پیچھے آئے گا اور ان کا دودھ پی لے گا ان کی اون کے ذریعے کپڑے پہنے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان کے بالوں کے ذریعے کپڑے پہنے گا جبکہ اللہ کی قسم فتنے عربوں کے اندر سرایت کر چکے ہوں گے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! مجھے اس بارے میں تلقین کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز ادا کرو، زکوۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو اور عمرہ کرو اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو، رشتے داری کے حقوق کا خیال رکھو، مہمان کی عزت افزائی کرو، نیکی کا حکم دو، برائی سے منع کرو اور حق کے ساتھ رہو خواہ وہ جہاں بھی ہو۔