کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ وصف کہ دبّاء، حنتم، النقير اور المزفت وہ برتن ہیں جن میں ڈالنا منع کیا گیا
حدیث نمبر: 5407
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، فَأَمَّا الدُّبَّاءُ ، فَكَانَتْ تُخْرَطُ عَنَاقِيدُ الْعِنَبِ ، فَنَجْعَلُهُ فِي الدُّبَّاءِ ، ثُمَّ نَدْفِنُهَا حَتَّى تَمُوتَ ، وَأَمَّا الْحَنْتَمُ ، فَجِرَارٌ كُنَّا نُؤْتَى فِيهَا بِالْخَمْرِ مِنَ الشَّامِ ، وَأَمَّا النَّقِيرُ ، فَإِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَعْمِدُونَ إِلَى أُصُولِ النَّخْلَةِ فَيَنْقِرُونَهَا ، وَيَجْعَلُونَ فِيهَا الرُّطَبَ وَالْبُسْرَ ، فَيَدْفِنُونَهَا فِي الأَرْضِ حَتَّى تَمُوتَ ، وَأَمَّا الْمُزَفَّتُ ، فَهَذِهِ الزِّقَاقُ الَّتِي فِيهَا الزِّفْتُ " .
سیدنا ابوبکره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت سے منع کیا ہے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) جہاں تک دباء کا تعلق ہے تو انگور کی بیلوں کو توڑ کر ہم اسے دباء (نامی برتن میں) رکھ دیتے پھر اسے دفن کر دیتے یہاں تک کہ وہ مر جاتی ہے۔ جہاں تک حنتم کا تعلق ہے تو یہ ایک گھڑا ہے جس میں ہم شام سے شراب لاتے تھے۔ جہاں تک نقیر کا تعلق ہے تو اہل مدینہ یہ کرتے تھے کھجور کی جڑ لے کر اسے کھوکھلا کرتے تھے اس میں تازہ اور خشک کھجوریں ڈالتے تھے اسے زمین میں دفن کر دیتے تھے یہاں تک کہ وہ مر جاتی تھی۔ جہاں تک مزفت کا تعلق ہے تو اس سے مراد وہ برتن ہے جس میں زفت ہوتا ہے۔