کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ یہ زجر تحریم کا زجر ہے، تعزیر کا نہیں
حدیث نمبر: 5403
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ ، إِذْ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : " ذَلِكَ مِمَّا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ : فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ ، فَقَالَ : ذَلِكَ مِمَّا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَدَقَ ، فَقُلْتُ : وَمَا الْجَرُّ ؟ قَالَ : كُلُّ شَيْءٍ مِنْ مَدَرٍ .
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا۔ ایک شخص نے ان سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ وہ چیز ہے جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں نے انہیں بتایا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ وہ چیز ہے جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا انہوں نے ٹھیک کہا: ہے میں نے دریافت کیا گھڑے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہر وہ چیز جو مٹی سے بنائی گئی ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأشربة / حدیث: 5403
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5379»