کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ عباس بن عبد المطلب کے نبیذ سے پینا جائز ہے اگر وہ نشہ آور نہ ہو
حدیث نمبر: 5392
أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ وَاسْتَسْقَى ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : يَا فَضْلُ ، اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ ، فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْقِنِي ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْقِنِي ، فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْتَقُونَ ، وَيَعْمَلُونَ فِيهَا ، فَقَالَ : اعْمَلُوا ، فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ ، ثُمَّ قَالَ : لَوْلا أَنْ تُغْلَبُوا ، لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ " ، وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانی پلانے والے کے پاس آئے آپ نے پانی طلب کیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے (اپنے صاحب زادے سے) فرمایا: اے فضل تم اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور ان کے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کوئی مشروب لے کر آؤ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے کچھ پینے کے لئے دو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ان لوگوں نے اپنے ہاتھ اس میں ڈالے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کچھ پینے کے لئے دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا پھر آپ زم زم کے پاس تشریف لائے لوگ پانی حاصل کر رہے تھے اور وہاں کام کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ کام کرتے رہو تم ایک نیک کام کر رہے ہو پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ ہجوم زیادہ ہو جائے گا تو میں بھی نیچے اترتا یہاں تک کہ میں (پانی نکالنے والے ڈول کی) رسی کو یہاں رکھتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔