کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ وصف کہ جس نبیذ کو پیا جا سکتا ہے، وہ کیسا ہو
حدیث نمبر: 5384
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَاهُ قَوْمٌ ، فَسَأَلُوهُ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ وِشِرَائِهِ وَالتِّجَارَةِ فِيهِ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَمُسْلِمُونَ أَنْتُمْ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّهُ لا يَصْلُحُ بَيْعُهُ ، وَلا شِرَاؤُهُ ، وَلا التِّجَارَةُ فِيهِ لِمُسْلِمٍ ، وَإِنَّمَا مَثَلُ مِنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ ، مَثَلُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ ، فَلَمْ يَأْكُلُوهَا ، فَبَاعُوهَا ، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا ، ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ الطِّلاءِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَمَا طِلاؤُكُمْ هَذَا الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ ؟ قَالُوا : هَذَا الْعِنَبُ يُطْبَخُ ، ثُمَّ يُجْعَلُ فِي الدِّنَانِ ، قَالَ : وَمَا الدِّنَانُ ؟ قَالُوا : دِنَانٌ مُقَيِّرَةٌ ، قَالَ : أَيُسْكِرُ ؟ قَالُوا : إِذَا أَكْثَرَ مِنْهُ أَسْكَرَ ، قَالَ : فَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ، ثُمَّ سَأَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ ، قَالَ : خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَرَجَعَ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ قَدِ انْتَبِذُوا نَبِيذًا فِي نَقِيرٍ ، وَحَنَاتِمَ ، وَدُبَّاءٍ ، " فَأَمَرَ بِهَا ، فَأُهْرِيقَتْ ، وَأَمَرَ بِسِقَاءٍ ، فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَاءٌ ، فَكَانَ يُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَيُصْبِحُ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ الَّتِي يَسْتَقْبِلُ ، وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى يُمْسِيَ ، فَإِذَا أَمْسَى فَشَرِبَ وَسَقَى ، فَإِذَا أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ أَهْرَاقَهُ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے: کچھ لوگ ان کے پاس آئے اور ان سے شراب کی خرید و فروخت اور اس کی تجارت کرنے کے بارے میں دریافت کیا سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: کیا تم لوگ مسلمان ہو۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے فروخت کرنا اور اس کی تجارت کرنا کسی بھی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے۔ مسلمانوں میں سے جو شخص ایسا کرے گا اس کی مثال بنی اسرائیل کی طرح ہو گی جن کے لئے چربی کو حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اسے کھایا، تو نہیں، لیکن اسے فروخت کرنا شروع کر دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے پھر ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے طلاء کے بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: طلاء کیا چیز ہے؟ جس کے بارے میں تم لوگ دریافت کر رہے ہو؟ انہوں نے بتایا یہ انگور کو پکایا جاتا ہے پھر اسے مٹکے میں رکھ دیا جاتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا دنان سے مراد کیا ہے۔ لوگوں نے کہا: اس سے مراد مخصوص قسم کا مٹکا ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا وہ مشروب نشہ کر دیتا ہے۔ لوگوں نے بتایا جب اسے زیادہ پی لیا جائے تو نشہ کر دیتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے پھر ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر گئے ہوئے تھے جب آپ واپس تشریف لائے تو آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے نقیر حنتم دباء (یعنی مخصوص قسم کے برتنوں) میں نبیذ تیار کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے بہا دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت مشکیزے میں کشمش اور پانی ڈال کر (نبیذ تیار کی گئی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رات کے وقت نبیذ تیار کی گئی تو اس سے اگلے دن صبح آپ نے اسے پی لیا۔ اس کے بعد اگلی رات آئی اس کے بعد اگلے دن کی شام آئی جب شام آئی تو آپ نے اسے پی لیا اور پلایا بھی جب اس سے اگلے دن کی صبح آئی تو آپ نے اسے بہا دیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأشربة / حدیث: 5384
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م دون المثل إلى قوله: فكل مسكر حرام. * [حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ] قال الشيخ: وثَّقَه المؤلف أبو زُرعَةَ. وقال أبو حاتم: «صدوق ليس بالمتين». وصحَّح له المؤُلِّفُ عِدَّةَ أحاديث، وَادَّعى المُعَلِّقُ هنا أَنَّهُ تُوبِعَ على هذا الحديث، وَإِنَّمَا تُوبِعَ عَلَى بعضه! وَتَرَتَّبَ عَلَى هذا الوهمِ وَهْمٌ آخر، وهو أَنَّهُ عزاه إلى جمع - منهم مسلم -، وهو مع أَنَّهُ إِنَّمَا رواهُ مُفَرَّقاً (6/ 101 و 102)، فليس عنده: «إنَّما مثل ... فَكُلُّ مُسكرٍ حَرَامٌ»! فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5360»