کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ خبر کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایسی شراب حرام کی جو نماز کو متاثر کرے، اگر زیادہ پیا جائے
حدیث نمبر: 5376
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، إِلَى الْيَمَنِ ، أَمَرَنَا أَنْ يَنْزِلَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ ، فَقَالَ لَنَا : " يَسِّرَا وَلا تُعَسِّرَا ، وَبَشِّرَا وَلا تُنَفِّرَا " ، فَلَمَّا قُمْنَا ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا : الْبِتْعُ مِنَ الْعَسَلِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ ، وَالْمِزْرُ مِنَ الشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُوتِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كُلُّ مُسْكِرٍ يُسْكِرُ عَنِ الصَّلاةِ " . قَالَ : " وَأَتَانِي مُعَاذٌ يَوْمًا وَعِنْدِي رَجُلٌ كَانَ يَهُودِيًّا ، فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ ، فَسَأَلَنِي : مَا شَأْنُهُ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقُلْتُ لِمُعَاذٍ : اجْلِسْ ، فَقَالَ : مَا أَنَا بِالَّذِي أَجْلِسُ حَتَّى أَعْرِضَ عَلَيْهِ الإِسْلامَ ، فَإِنْ قَبِلَ ، وَإِلا ضَرَبْتُ عُنُقَهُ ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ الإِسْلامَ ، فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ ، فَسَأَلَنِي مُعَاذٌ يَوْمًا : كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟ فَقُلْتُ : أَقْرَؤُهُ قَائِمًا وَقَاعِدًا ، وَعَلَى فِرَاشِي أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا ، قَالَ : وَسَأَلْتُ مُعَاذًا : كَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَقْرَأُ وَأَنَامُ ، ثم أقوم فأتقوى بنومتي على قومتي ، ثم أحتسب نومتي بما أحتسب به قومتي " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو آپ نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے قریب رہے۔ آپ نے ہم سے فرمایا تم دونوں آسانی فراہم کرنا تنگی کا شکار نہ کرنا خوشخبری سنانا متنفر نہ کرنا جب ہم اٹھنے لگے، تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ ہمیں دو طرح کے مشروبات کے بارے میں حکم بیان کر دیجئے جو ہم تیار کرتے ہیں۔ ایک بتع ہے جو شہد سے بنایا جاتا ہے۔ اس کی نبیذ تیار کی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ پختہ ہو جاتی ہے اور مزر ہے جسے جو اور مکئی سے بنایا جاتا ہے اس کی نبیذ ہوتی ہے یہاں تک کہ اس میں شدت آ جاتی ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکہ جامع اور مانع کلمات عطا کئے گئے تھے اس لئے آپ نے ارشاد فرمایا: تم پر ہر وہ چیز حرام ہے جو نشہ آور ہو جو نماز سے روک دے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک دن سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اس وقت میرے پاس ایک شخص موجود تھا جو پہلے یہودی تھا، پھر اس نے اسلام قبول کیا پھر یہودی ہو گیا۔ انہوں نے مجھ سے اس معاملے کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ تشریف رکھیں۔ انہوں نے فرمایا: میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک میں اسے اسلام کی پیشکش نہیں کرتا اگر یہ اسے قبول کر لے گا تو ٹھیک ہے ورنہ میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اسے اسلام کی پیشکش کی۔ اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے اس کی گردن اڑا دی ایک دن سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا تم قرآن کیسے پڑھتے ہو۔ میں نے جواب دیا: میں قیام کی حالت میں بیٹھ کر اور بستر پر لیٹ کر بھی اسے پڑھ لیتا ہوں۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا آپ کیسے پڑھتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: میں اس کی تلاوت کرتا ہوں پھر سو جاتا ہوں پھر قیام کی حالت میں پڑھتا ہوں تو میں اپنی نیند کے ذریعے اپنے قیام کے بارے میں قوت حاصل کرتا ہوں اور مجھے اپنی نیند سے بھی اس ثواب کی امید ہے جو اپنے قیام کرنے کے حوالے سے ثواب کی امید ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأشربة / حدیث: 5376
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4341 و 4343 و 4344 و 6923) بتمامه نحوه دون جملة الجوامع، م (6/ 100) دون الجملة، ودون قوله: وأتاني معاذ يوما ... إلخ - «غاية المرام» (57). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5352»