کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ گندم کا نبیذ خمر ہے اگر زیادہ پیا جائے تو نشہ آ جائے
حدیث نمبر: 5367
حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلَّمَهُمُ الصَّلاةَ ، وَالسُّنَنَ ، وَالْفَرَائِضَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْغُبَيْرَاءُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : لا تَطْعَمُوهُ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ يَوْمَيْنِ ذِكْرُوهُمَا لَهُ أَيْضًا ، فَقَالَ : الْغُبَيْرَاءُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : لا تَطْعَمُوهُ ، فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : الْغُبَيْرَاءُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ؟ قَالَ : فَلا تَطْعَمُوهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ هَذَا : عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ حَلِيفُ الأَوْسِ مِنْ جِلَّةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز سنتوں اور فرائض کی تعلیم دی۔ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ہمارے ہاں ایک مشروب ہے جسے ہم گندم اور جو سے بناتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا غبیراء (کے بارے میں تم پوچھنا چاہتے ہو) ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے نہ کھاؤ دو دن کے بعد پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غبیراء (کے بارے میں تم دریافت کرنا چاہتے ہو) انہوں نے عرض کی: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسے نہ کھاؤ۔ جب ان لوگوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو انہوں نے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم (غبیراء کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہو) ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے نہ کھاؤ۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمر بن حکم نامی راوی عمر بن حکم بن ثوبان ہیں جو اوس قبیلے کے حلیف ہیں اور اہل مدینہ کے جلیل القدر افراد میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے احادیث کا سماع کیا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأشربة / حدیث: 5367
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن - انظر التعليق. * [أَبَا السَّمْحِ] قال الشيخ: قلت: ومِنْ طريقِه: أخرجه البيهقي (8/ 292). وهذا إِسنادٌ حسنٌ، رجاله ثقات؛ على الخلاف المعروف في أبي السَّمحِ - واسمه (درَّاج) -، وهو مُستقيمُ الحديث في روايته عن غيرِ أَبِي الهيثم. ورواه ابنُ لهيعةَ عنه، وزادَ فِي آخره: قالوا: فَإِنَّهُم لا يدعونها؟ قال: «من لم يتركها؛ فاضربوا عُنقَه». أخرجه أحمد (6/ 427)، وأبو يعلى (7147)، والطبراني في «الكبير» (23 / رقم 483 و 495)، وابن لهيعة ضعيف. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5343»