کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ خبر کہ اگر شراب مضبوط ہو جائے تو وہ خمر ہے
حدیث نمبر: 5365
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْجَرِّ الأَخْضَرِ ، وَالْجَرِّ الأَبْيَضِ ، وَالْجَرِّ الأَحْمَرِ ، فَقَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ ، فَقَالَ : " لا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَلا تَشْرَبُوا فِي الْجَرِّ ، وَاشْرَبُوا فِي الأَسْقِيَةِ ، قَالُوا : فَإِنِ اشْتَدَّ فِي الأَسْقِيَةِ ؟ قَالَ : وَإِنِ اشْتَدَّ فِي الأَسْقِيَةِ ، فَصُبُّوا عَلَيْهَا الْمَاءَ ، قَالُوا : فَإِنِ اشْتَدَّ ؟ قَالَ : فَأَهْرِيقُوهُ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا حَرَّمَ عَلَيَّ ، أَوْ حَرَّمَ الْخَمْرَ ، وَالْمَيْسِرَ ، وَالْكُوبَةَ ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " ، قَالَ سُفْيَانُ : قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ : مَا الْكُوبَةُ ؟ قَالَ : الطَّبْلُ .
قیس بن حبتر بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سبز گھڑے سفید گھڑے اور سرخ گھڑے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اس بارے میں سب سے پہلے عبدالقیس قبیلے کے وفد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ دباء، مزفت اور حنتم (نامی برتنوں) میں نہ پیو اور تم مٹکے میں نہ پیو تم مشکیزوں میں پی لیا کرو۔ لوگوں نے عرض کی: اگر مشکیزے میں موجود (نبیذ میں) شدت آ جائے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مشکیزے میں موجود مشروب میں شدت آ جاتی ہے تو تم اس پر پانی ڈال لو۔ انہوں نے عرض کی: اگر پھر بھی شدت رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے بہا دو پھر آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حرام قرار دیا ہے۔ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) اللہ تعالیٰ نے شراب جوے اور کوبہ کو حرام قرار دیا ہے اور ہر نشہ آور چیز بھی حرام ہے۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کہا: کوبہ سے مراد کیا ہے انہوں نے کہا: ڈھول۔