کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ وصف کہ انصار کس قسم کی شراب پیتے تھے قبل از تحریم
حدیث نمبر: 5361
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، وَسُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ ، وَأَنَا أَسْقِيهِمْ مِنْ شَرَابٍ ، حَتَّى كَادَ يَأْخُذُ فِيهِمْ ، فَمَرَّ بِنَا مَارٌّ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَنَادَى : أَلا هَلْ شَعَرْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا انْتَظَرُوا أَنْ أَمَرُونِيَ أَنِ اكْفَأْ مَا فِي آنِيَتِكَ ، فَفَعَلْتُ ، فَمَا عَادُوا فِي شَيْءٍ مِنْهَا حَتَّى لَقُوا اللَّهَ ، وَإِنَّهَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ ، وَإِنَّهَا لَخَمْرُنَا يَوْمَئِذٍ يَوْمَئِذٍ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ، سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ان کے ہاں موجود تھے۔ میں ان حضرات کو شراب پلا رہا تھا۔ وہ حضرات اسے پی ہی رہے تھے اسی دوران وہاں سے ایک مسلمان گزرا اور اس نے اعلان کیا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم انہوں نے اس بات کا انتظار نہیں کیا (اور فورا) مجھے یہ ہدایت کی کہ تم اپنے برتن میں موجود شراب کو انڈیل دو تو میں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک انہوں نے کبھی شراب نہیں پی۔ اس زمانے میں شراب تازہ اور خشک کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔ ان دنوں ہماری شراب یہی تھی۔
حدیث نمبر: 5362
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ ، وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا ، فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ، قَالُوا : يَا أَنَسُ اكْفَأْهَا ، قَالَ : فَكَفَأْتُهَا " ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَقُلْتُ : مَا كَانَتْ ؟ قَالَ : بُسْرًا وَرُطَبًا ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ : كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے چچاؤں کو فضیخ پلا رہا تھا کیونکہ میں عمر میں ان میں سب سے کم سن تھا۔ اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا: شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے تو انہوں نے کہا: اے انس! اسے گرا دو تو میں نے اسے گرا دیا۔ سلیمان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا وہ شراب کسی چیز کی بنائی جاتی تھی۔ سیدنا انس نے جواب دیا: خشک اور تازہ کھجوروں کی۔
راوی بیان کرتے ہیں: ابوبکر بن انس نے یہ بات بیان کی ان دنوں شراب اسی چیز سے بنائی جاتی تھی۔
راوی بیان کرتے ہیں: ابوبکر بن انس نے یہ بات بیان کی ان دنوں شراب اسی چیز سے بنائی جاتی تھی۔