کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر شراب کو حرام کیا بعد از کہ پہلے مباح تھا
حدیث نمبر: 5351
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : " مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، فَلَمَّا حُرِّمَتْ ، قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ بِأَصْحَابِنَا مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا ؟ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 " .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب ایسے عالم میں فوت ہوئے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے جب شراب کو حرام قرار دیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب نے عرض کی: ہمارے ان ساتھیوں کا کیا بنے گا جو ایسی حالت میں فوت ہوئے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی: ” جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ان پر اس حوالے سے کوئی گناہ نہیں ہو گا، جو وہ کھاتے پیتے رہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأشربة / حدیث: 5351
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5327»