کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ خبر کہ شراب کے تحریم کا سبب کیا تھا
حدیث نمبر: 5349
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " فِيَّ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ ، شَرِبْتُ مَعَ قَوْمٍ ، ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ ، فَضَرَبَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ عَلَى أَنْفِي بِلَحْيِ جَمَلٍ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ ، قَالَ : وَأَصَبْتُ سَيْفًا يَوْمَ بَدْرٍ ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ سورة الأنفال آية 1 " .
مصعب بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میرے بارے میں شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا میں کچھ لوگوں کے ساتھ شراب پی رہا تھا یہ شراب کو حرام قرار دیئے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ ان میں سے ایک آدمی نے میری ناک پر اونٹ کی ہڈی مار دی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے آپ کے سامنے اس بات کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت سے متعلق حکم نازل کر دیا۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر مجھے ایک تلوار ملی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو یہ آیت نازل ہوئی: ” لوگ تم سے مال غنیمت کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ تم یہ فرما دو! انفال اللہ اور اس کے رسول کے لئے مخصوص ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الأشربة / حدیث: 5349
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2446). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5325»