کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: پانیوں (مشروبات) کے بیان میں ایک فصل - یہ بیان کہ انسان کو ہر حالت میں شراب سے بچنا واجب ہے کیونکہ یہ برائیوں کی جڑ ہے
حدیث نمبر: 5348
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ خَطِيبًا ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اجْتَنِبُوا أُمَّ الْخَبَائِثِ ، فَإِنَّهُ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ قَبْلَكُمْ يَتَعَبَّدُ ، وَيَعْتَزِلُ النَّاسَ ، فَعَلِقَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ خَادِمًا ، فَقَالَتْ : إِنَّا نَدْعُوكَ لِشَهَادَةٍ ، فَدَخَلَ فَطَفِقَتْ كُلَّمَا يَدْخُلُ بَابًا ، أَغْلَقَتْهُ دُونَهُ حَتَّى أَفْضَى إِلَى امْرَأَةٍ وَضِيئَةٍ جَالِسَةٍ ، وَعِنْدَهَا غُلامٌ وَبَاطِيَةٌ فِيهَا خَمْرٌ ، فَقَالَتْ : إِنَّا لَمْ نَدْعُكَ لِشَهَادَةٍ ، وَلَكِنْ دَعَوْتُكَ لِتَقْتُلَ هَذَا الْغُلامَ ، أَوْ تَقَعَ عَلَيَّ ، أَوْ تَشْرَبَ كَأْسًا مِنْ هَذَا الْخَمْرِ ، فَإِنْ أَبَيْتَ ، صِحْتُ بِكَ وَفَضَحْتُكَ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُ لا بُدَّ لَهُ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : اسْقِينِي كَأْسًا مِنْ هَذَا الْخَمْرِ ، فَسَقَتْهُ كَأْسًا مِنَ الْخَمْرِ ، فَقَالَ : زِيدِينِي ، فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى وَقَعَ عَلَيْهَا ، وَقَتَلَ النَّفْسَ ، فَاجْتَنِبُوا الْخَمْرَ ، فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لا يَجْتَمِعُ الإِيمَانُ وَإِدْمَانُ الْخَمْرِ فِي صَدْرِ رَجُلٍ أَبَدًا ، لَيُوشِكَنَّ أَحَدُهُمَا يُخْرِجُ صَاحِبَهُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سُرَيْجٍ هَذَا ، هُوَ مِنْ ثِقَاتِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيُّ .
عبدالرحمن بن حارث بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ انہوں نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: تمام برائیوں کی جڑ سے اجتناب کرو کیونکہ تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جو عبادت کیا کرتا تھا اور لوگوں سے الگ تھلگ رہتا تھا۔ ایک عورت کو اس سے محبت ہو گئی۔ اس نے اپنے خادم کو اس کے پاس بھیجا اور بولی: ہم ایک گواہی کے سلسلے میں تمہیں بلا رہے ہیں وہ جیسے ہی اس کے گھر میں داخل ہوا اس پر یہ دروازے بند کر دیئے گئے یہاں تک کہ وہ شخص ایک عورت کے پاس پہنچ گیا جو انتہائی خوبصورت تھی اور بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے پاس ایک لڑکا بھی تھا اور ایک صراحی بھی تھی جس میں شراب موجود تھی۔ اس عورت نے کہا: ہم نے تمہیں کسی گواہی کے سلسلے میں نہیں بلایا بلکہ میں نے تمہیں اس لئے بلایا ہے تاکہ تم یا تو اس لڑکے کو قتل کر دو یا میرے ساتھ زنا کر لو یا پھر اس شراب کا ایک پیالہ پی لو اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو میں بلند آواز میں چلاؤں گی اور نہیں رسوا کر دوں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب اس شخص نے یہ دیکھا کہ اس کے علاوہ اور کوئی چارا نہیں ہے تو اس نے کہا: تم مجھے شراب کا پیالہ پلا دو۔ اس عورت نے اسے شراب کا پیالہ پلا دیا۔ اس نے کہا: تھوڑی سی اور دو اس کے بعد وہ مسلسل شراب پیتا رہا یہاں تک کہ اس نے اس عورت کے ساتھ زنا بھی کر لیا اور اس لڑکے کو قتل بھی کر دیا۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) تو تم لوگ شراب سے اجتناب کرو کیونکہ اللہ کی قسم کسی بھی شخص کے سینے میں ایمان اور شراب نوشی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کو باہر نکال دیتا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمر بن سعید سریج نامی راوی اہل مدینہ کے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں، جس کے حوالے سے عبدالرحمن بن اسحاق مدنی نے روایات نقل کی ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عمر بن سعید سریج نامی راوی اہل مدینہ کے ثقہ راویوں میں سے ایک ہیں، جس کے حوالے سے عبدالرحمن بن اسحاق مدنی نے روایات نقل کی ہیں۔