کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: پینے کے آداب کا بیان - یہ بیان کہ یہ دودھ پانی ملا ہوا تھا جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پلایا
حدیث نمبر: 5337
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَعِدَّةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَبَنٍ وَقَدْ شِيبَ بِمَاءٍ ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ ، فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعْطَى الأَعْرَابِيَّ ، وَقَالَ : " الأَيْمَنُ فَالأَيْمَنُ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هَذَانِ الْفِعْلانِ كَانَا فِي مَوْضِعَيْنِ ، وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ ، أَنَّ فِيَ خَبَرِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أُتِيَ بِشَرَابٍ ، وَعَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلامٌ ، وَاسْتَأْذَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقْيِهِمْ دُونَهُ ، وَفِي خَبَرِ أَنَسٍ أُتِيَ بِلَبَنٍ وَقَدْ شِيبَ بِالْمَاءِ ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ ، وَلَمْ يَسْتَأْذِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَ فِي خَبَرِ سَهْلٍ ، فَدَلَّكَ مَا وَصَفْتُ عَلَى أَنَّهُمَا فِعْلانِ مُتَبَايِنَانِ فِي مَوْضِعَيْنِ ، لا فِي مَوْضِعٍ وَاحِدٍ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا آپ کے دائیں طرف ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا پھر آپ نے دیہاتی کو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا دائیں طرف والے کا حق پہلے ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ دونوں فعل دو مختلف موقعوں کے ہیں اور اس بات کی دلیل کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں مذکور ہے۔ آپ کی خدمت میں مشروب پیش کیا گیا اور آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اجازت لی کہ آپ اپنے بچے ہوئے حصے کو اس کی بجائے دوسرے کو دیں جبکہ سیدنا انس سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملا ہوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف دیہاتی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اجازت نہیں مانگی، جس طرح اس روایت میں اجازت مانگنے کا ذکر ہے جو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے تو یہ چیز آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کرے گی کہ یہ دو مختلف فعل ہیں جو دو مختلف موقع پر پیش آئے تھے یہ ایک ہی موقع کا واقعہ نہیں ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ دونوں فعل دو مختلف موقعوں کے ہیں اور اس بات کی دلیل کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں مذکور ہے۔ آپ کی خدمت میں مشروب پیش کیا گیا اور آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اجازت لی کہ آپ اپنے بچے ہوئے حصے کو اس کی بجائے دوسرے کو دیں جبکہ سیدنا انس سے منقول روایت میں یہ بات مذکور ہے دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملا ہوا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف دیہاتی تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اجازت نہیں مانگی، جس طرح اس روایت میں اجازت مانگنے کا ذکر ہے جو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے تو یہ چیز آپ کی رہنمائی اس بات کی طرف کرے گی کہ یہ دو مختلف فعل ہیں جو دو مختلف موقع پر پیش آئے تھے یہ ایک ہی موقع کا واقعہ نہیں ہے۔