کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - یہ خبر جو واضح کرتی ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم (ذمی) مردہ زمین کو آباد کرے تو وہ اس کا مالک نہیں بن سکتا۔
حدیث نمبر: 5205
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلانَ بِأَذَنَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الزِّمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ ، وَمَا أَكَلَتِ الْعَوَافِي مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَمَّا قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فِي هَذَا الْخَبَرِ وَمَا أَكَلَتِ الْعَوَافِي مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ ، كَانَ فِيهِ أَبْيَنُ الْبَيَانِ بِأَنَّ الْخِطَابَ وَرَدَ فِي هَذَا الْخَبَرِ لِلْمُسْلِمِينَ دُونَ غَيْرِهِمْ ، وَأَنَّ الذِّمِّيَّ لَمْ يَقَعْ خِطَابُ الْخَبَرِ عَلَيْهِ ، وَأَنَّهُ إِذَا أَحْيَى الْمَوَاتَ لَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ ، إِذِ الصَّدَقَةُ لا تَكُونُ إِلا لِلْمُسْلِمِينَ . وَقَدْ سَمِعَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُمَا طَرِيقَانِ مَحْفُوظَانِ وَطُلابُ الرِّزْقِ يُسَمَّوْنَ الْعَافِيَةَ . قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص بنجر زمین کو آباد کرتا ہے وہ اس کی ملکیت ہوتی ہے اس میں سے جو بھی جانور وغیرہ جو کچھ کھا لیتا ہے یہ چیز اس کے لئے صدقہ ہو گی۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں یہ فرما دیا ” اس میں سے جو بھی جانور وغیرہ کچھ کھا لیتا ہے تو یہ اس کے حق میں صدقہ ہو گا اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے اس روایت میں موجود حکم مسلمانوں کے لئے ہے دوسروں کے لئے نہیں ہے اور اس روایت کا حکم ذمیوں پر لاگو نہیں ہو گا کہ اگر وہ کسی بنجر زمین کو آباد کر لیتے ہیں، تو وہ ان کی ملکیت نہیں ہو گی کیونکہ صدقہ صرف مسلمانوں کی طرف سے ہوتا ہے۔ ہشام بن عروہ نے یہ روایت وہب بن کیسان سے سنی ہے اور عبداللہ بن عبدالرحمن کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنی ہے اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ رزق کے طلب گاروں کے لئے لفظ ” عافیہ “ استعمال ہوتا ہے (جو اس حدیث میں استعمال ہوا ہے) یہ بات امام ابوحاتم نے بیان کی ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں یہ فرما دیا ” اس میں سے جو بھی جانور وغیرہ کچھ کھا لیتا ہے تو یہ اس کے حق میں صدقہ ہو گا اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے اس روایت میں موجود حکم مسلمانوں کے لئے ہے دوسروں کے لئے نہیں ہے اور اس روایت کا حکم ذمیوں پر لاگو نہیں ہو گا کہ اگر وہ کسی بنجر زمین کو آباد کر لیتے ہیں، تو وہ ان کی ملکیت نہیں ہو گی کیونکہ صدقہ صرف مسلمانوں کی طرف سے ہوتا ہے۔ ہشام بن عروہ نے یہ روایت وہب بن کیسان سے سنی ہے اور عبداللہ بن عبدالرحمن کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنی ہے اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ رزق کے طلب گاروں کے لئے لفظ ” عافیہ “ استعمال ہوتا ہے (جو اس حدیث میں استعمال ہوا ہے) یہ بات امام ابوحاتم نے بیان کی ہے۔