کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - یہ بیان کہ جو مسلمان مردہ زمین کو آباد کرے، اللہ جل وعلا اسے اس پر اجر دیتا ہے اور جو جاندار اس میں سے کھائے، اس پر صدقہ لکھا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 5204
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنَ الْمِنْهَالِ ابْنِ أَخِي الْحَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيْتَةً ، فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ ، وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ ، مِنْهَا فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ صَحِيحٌ ، عَلَى أَنَّ الذِّمِّيَّ إِذَا أَحْيَى أَرْضًا مَيْتَةً لَمْ تَكُنْ لَهُ ، لأَنَّ الصَّدَقَةَ لا تَكُونُ إِلا لِلْمُسْلِمِ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص بنجر زمین کو آباد کرتا ہے اسے اس کا اجر ملے گا اور اس میں سے جو چیز بھی کچھ کھا لیتی ہے تو یہ اس شخص کے حق میں صدقہ شمار ہو گا۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی صحیح دلیل موجود ہے جب کوئی ذمی شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اس کی ملکیت نہیں ہو گی کیونکہ صدقہ صرف مسلمان کے لئے ہوتا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی صحیح دلیل موجود ہے جب کوئی ذمی شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اس کی ملکیت نہیں ہو گی کیونکہ صدقہ صرف مسلمان کے لئے ہوتا ہے۔