کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - یہ خبر جو واضح کرتی ہے کہ اس عمومی خطاب سے مراد صرف وہ ہمسایہ ہے جو شریک ہو، نہ کہ جو شریک نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5183
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ قَالَ : وَقَفْتُ عَلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، فَجَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى أَحَدِ مَنْكِبَيَّ ، إِذْ جَاءَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا سَعْدُ ، ابْتَعْ مِنِّي بَيْتِي فِي دَارِكَ ، فَقَالَ سَعْدُ : لا وَاللَّهِ لا أَبْتَاعُهُمَا ، فَقَالَ الْمِسْوَرُ : وَاللَّهِ لَتَبْتَاعَنَّهُمَا ، فَقَالَ سَعْدٌ : وَاللَّهِ لا أَزِيدُكَ عَلَى أَرْبَعَةِ آلافٍ مُنَجَّمَةٍ أَوْ مُقَطَّعَةٍ ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : وَاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيتُ بِهَا خَمْسَ مِئَةِ دِينَارٍ ، وَلَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْمَرْءُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ " ، مَا أَعْطَيْتُكَهُمَا بِأَرْبَعَةِ آلافِ دِرْهَمٍ وَأَنَا أُعْطَى بِهِمَا خَمْسَ مِائَةِ دِينَارٍ .
عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں: میں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ اسی دوران سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ انہوں نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔ انہوں نے فرمایا: اے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ آپ مجھ سے اپنے محلے میں موجود میرے گھر خرید لیجئے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم میں ان دونوں گھروں کو نہیں خریدوں گا۔ سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم آپ ان دونوں کو خریدیں گے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میں چار ہزار (درہم) سے زیادہ ادائیگی نہیں کروں گا اور وہ بھی قسطوں میں ہو گی تو سیدنا ابورافع نے کہا: اللہ کی قسم مجھے اس کے پانچ سو دینار مل رہے ہیں اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا۔ ” آدمی اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہوتا ہے تو میں چار ہزار درہم کے عوض میں یہ دونوں گھر آپ کو نہ دیتا جبکہ مجھ کو ان کے پانچ سو دینار دیئے جا رہے ہیں“