کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - یہ وضاحت کہ یہ ممانعت اس شخص کے لیے ہے جس کا ہمسایہ اس کی زمین میں شریک ہو، کیونکہ شفعہ صرف شریک کو حاصل ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 5179
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي رَبْعَةٍ أَوْ نَخْلٍ ، فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ ، فَإِنْ رَضِيَ أَخَذَ ، وَإِنْ كَرِهَ تَرَكَ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جس شخص کا کسی زمین یا کھجور کے باغ میں کوئی حصہ دار ہو تو اسے اپنے حصے کو فروخت کرنے کا اس وقت تک اختیار نہیں ہو گا جب تک وہ اپنے شراکت دار کو اطلاع نہ دیدے اگر وہ (شراکت دار) راضی ہو تو اسے حاصل کر لے اور اگر نہ چاہے تو چھوڑ دے۔ “