فہرستِ ابواب — صحیح ابن حبان

ذكر الزجر عن أن يبيع المرء حائطه قبل أن يعرضه على جاره-

باب: - یہ تنبیہ کہ انسان کو اپنا باغ بیچنے سے پہلے اپنے ہمسائے کو پیشکش کیے بغیر فروخت نہیں کرنا چاہیے۔

حدیث 5178–5178

ذكر البيان بأن هذا الزجر إنما زجر عنه من كان له شريك في أرضه إذ الشفعة لا تكون إلا للشركاء-

باب: - یہ وضاحت کہ یہ ممانعت اس شخص کے لیے ہے جس کا ہمسایہ اس کی زمین میں شریک ہو، کیونکہ شفعہ صرف شریک کو حاصل ہوتی ہے۔

حدیث 5179–5179

ذكر الأمر بأخذ الشفعة للجار في العقدة المبيعة-

باب: - یہ حکم کہ فروخت شدہ مال میں شریک ہمسایہ کو حقِ شفعہ (خرید میں ترجیح) دیا جائے۔

حدیث 5180–5180

ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم الجار أحق بسقبه أراد به الجار الذي يكون شريكا دون الجار الذي لا يكون بشريك-

باب: - یہ وضاحت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "الجار أحق بسقبه" سے مراد وہ ہمسایہ ہے جو شریک ہو، نہ کہ عام پڑوسی۔

حدیث 5181–5181

ذكر خبر أوهم من جهل صناعة الحديث أن الجار الملاصق وإن لم يكن شريكا له الشفعة-

باب: - یہ خبر جس سے ناسمجھ لوگوں کو یہ گمان ہوا کہ محض ملحقہ (ملاصق) ہمسایہ بھی شفعہ کا حق رکھتا ہے۔

حدیث 5182–5182

ذكر الخبر الدال على أن عموم هذا الخطاب أراد به بعض الجار الذي يكون شريكا دون من لم يكن شريكا-

باب: - یہ خبر جو واضح کرتی ہے کہ اس عمومی خطاب سے مراد صرف وہ ہمسایہ ہے جو شریک ہو، نہ کہ جو شریک نہ ہو۔

حدیث 5183–5183

ذكر الخبر المصرح بأن الجار سواء كان متلاصقا أو مجاورا لا يكون له الشفعة حتى يكون شريكا لبائع الدار-

باب: - یہ خبر جو صراحت کرتی ہے کہ نہ ملحقہ اور نہ مجاور ہمسایہ کو شفعہ کا حق حاصل ہے، جب تک وہ فروخت کنندہ کے ساتھ شریک نہ ہو۔

حدیث 5184–5184

ذكر نفي الشفعة عن العقد إذا اشتراها غير شريك لبائعها منها-

باب: - یہ بیان کہ اگر کوئی خریدار فروخت کنندہ کا شریک نہ ہو تو اس خرید پر شفعہ کا حق نہیں۔

حدیث 5185–5185

ذكر خبر ثان يصرح بصحة ما ذكرنا معنى قوله صلى الله عليه وسلم الجار أحق بسقبه-

باب: - یہ دوسری خبر جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے جو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "الجار أحق بسقبه" کے معنی میں ذکر کی۔

حدیث 5186–5186

ذكر خبر ثالث يصرح بصحة ما ذكرناه-

باب: - یہ تیسری خبر جو اس مفہوم کی صحت پر دلالت کرتی ہے جسے ہم نے بیان کیا۔

حدیث 5187–5187

اس باب کی تمام احادیث