کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - یہ تنبیہ کہ مسلمانوں کے لیے حرام مال یا ناجائز طریقے سے حاصل شدہ دولت لینا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 5174
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلانَ ، سَمِعَ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مَا أَخْرَجَ اللَّهُ مِنْ نَبَتِ الأَرْضِ وَزَهْرَةِ الدُّنْيَا " ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ ؟ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ يُنَزَّلُ عَلَيْهِ ، وَكَانَ إِذَا نُزِّلَ عَلَيْهِ غَشِيَهُ بُهْرٌ وَعَرَقٌ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ ؟ " فَقَالَ : هَا أَنَا ذَا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَمْ أُرِدْ إِلا خَيْرًا ، فَقَالَ : " إِنَّ الْخَيْرَ لا يَأْتِي إِلا بِالْخَيْرِ ، وَلَكِنْ كُلُّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلا آكِلَةَ الْخَضِرِ ، فَإِنَّهَا تَأْكُلُ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا ، اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ، ثُمَّ عَاذَتْ ، فَأَكَلَتْ ، ثُمَّ قَامَتْ فَاجْتَرَّتْ ، فَمَنْ أَخَذَ مَالا بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَنَفَعَهُ ، وَمَنْ أَخَذَ مَالا بِغَيْرِ حَقِّهِ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ ، وَكَانَ كالَّذي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ " .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ” تمہارے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے اللہ تعالیٰ زمین کی نباتات اور دنیا کی آرائش و زیبائش کو ظاہر کر دے گا۔ ایک صاحب آپ کی خدمت میں کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا بھلائی برائی کو لے کر آئے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ اندازہ ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ پر غنودگی طاری ہو جاتی تھی اور آپ کو پسینہ آتا تھا جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ نے دریافت کیا سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) میں یہاں ہوں۔ میں نے اس کے ذریعے صرف بھلائی کا ارادہ کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بھلائی صرف بھلائی کو لے کر آتی ہے لیکن موسم بہار جو کچھ اگاتا ہے وہ بہت سے جانوروں کو مار دیتا ہے اور بہت سے جانوروں کو تکلیف کا شکار کرتا ہے۔ صرف سبزہ کھانے والے جانور کا حکم مختلف ہے کیونکہ وہ کھاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ پھول جاتا ہے تو وہ دھوپ میں آ جاتا ہے وہاں وہ لید کرتا ہے، پیشاب کرتا ہے، پھر واپس جاتا ہے پھر کھاتا ہے پھر کھڑا ہو جاتا ہے پھر چل پڑتا ہے جو شخص حق کے ہمراہ مال کو حاصل کرتا ہے اس کے لیے لئے اس میں برکت رکھی جاتی ہے اور وہ مال اسے فائدہ دیتا ہے جو شخص ناحق طور پر مال کو حاصل کرتا ہے اس کے لئے اس میں برکت نہیں رکھی جاتی اور اس کی مثال اس شخص کی مانند ہوتی ہے وہ کھانے کے باوجود سیر نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الغصب / حدیث: 5174
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (3215 - 3217). تنبيه!! رقم (3215) = (3225) من «طبعة المؤسسة». رقم (3217) = (3227) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5152»