کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - یہ خبر کہ انسان پر لازم ہے کہ لوگوں کے حقوق انہیں واپس کرے اور اس فانی و زائل دنیا پر بھروسہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 5160
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ ، قَالَتْ : حَسِبْتُ ذَلِكَ مِنْ وَجْعٍ ، قُلْتُ : مَا لِي أَرَاكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ سَاهِمَ الْوَجْهِ ؟ قَالَ : " مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَتْنَا الأَمْسِ فَلَمْ نَقْسِمْهَا " .
سیده ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو آپ کے چہرے پر ناراضگی کے آثار تھے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے یہ اندازہ لگایا کہ یہ کسی تکلیف کی وجہ سے ہے۔ میں نے عرض کی: کیا وجہ ہے مجھے آپ کے چہرے پر تکلیف کے آثار محسوس ہو رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان سات دیناروں کی وجہ سے ہے جو ہمارے پاس گزشتہ شام آئے تھے اور ہم انہیں تقسیم نہیں کر سکے۔