کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - یہ بیان کہ انسان کے لیے وزن تولنے کا کام کرنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ اس میں دیانت داری اور نصیحت کو لازم پکڑے۔
حدیث نمبر: 5147
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : " جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَاوَمَنَا سَرَاوِيلَ ، وَعِنْدَهُ وَزَّانٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : زِنْ فَأَرْجِحْ " ، أَرَادَ بِهِ مِنْ مَالِهِ لِيُعْطِيَ ثَمَنَ السَّرَاوِيلِ رَاجِحًا .
سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اور مخرفہ عبدی نے ” ہجر “ کے مقام سے کپڑا خریدا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک شلوار کے بارے میں ہمارے ساتھ سودا طے کیا۔ آپ کے ہمراہ وزن کرنے والا ایک شخص تھا جو معاوضے کا وزن کرتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا وزن کرو اور زیادہ ادائیگی کرنا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس کے ذریعے مراد یہ ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مال میں سے شلوار کی زیادہ قیمت ادا کرنا چاہتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإجارة / حدیث: 5147
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «أحاديث البيوع»، «المشكاة» (2924 / التحقيق الثاني). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5125»