کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - یہ خبر کہ اللہ جل وعلا کی کتاب (قرآن) کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5146
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَّاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الأَخْنَسِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، وَفِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ ، فَقَالُوا : هَلْ فيكمْ مَنْ رَاقٍ ؟ فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَرَقَاهُ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ ، فَلَمَّا أَتَى أَصْحَابُهُ كَرِهُوا ذَلِكَ ، فَقَالُوا : أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ بِذَلِكَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا مَرَرْنَا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ ، فَقَالُوا : هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَاقٍ ؟ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کا کسی عرب قبیلے کے پاس سے گزر ہوا ان میں سانپ یا بچھو کا ڈنگ مارا ہوا کوئی شخص تھا۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: کیا آپ کے درمیان کسی کو دم کرنا آتا ہے۔ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صاحب چلے گئے۔ انہوں نے کچھ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ آدمی ٹھیک ہو گیا۔ جب وہ صاحب اپنے ساتھیوں کے پاس آئے تو اس کے ساتھیوں نے اس بات کو پسند نہیں کیا۔ انہوں نے کہا: آپ نے اللہ کی کتاب کا معاوضہ وصول کیا ہے۔ جب یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو بلوایا اور ان سے دریافت کیا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم ایک عرب قبیلے کے پاس سے گزرے جس میں بچھو یا سانپ کا ڈنک مارا ہوا ایک شخص تھا۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: کیا آپ میں سے کسی کو دم کرنا آتا ہے تو میں نے سورہ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جس چیز کا معاوضہ وصول کرتے ہو اس میں زیادہ حق دار اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الإجارة / حدیث: 5146
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1494)، «البيوع»: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5124»