کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - یہ بیان کہ مسلمان آزاد افراد کو، اگرچہ وہ بالغ نہ ہوں، خدمت میں لینا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5145
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَهُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشَرِ سِنِينَ مَقْدِمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ ، فَكُنَّ أُمَّهَاتِي يُحَرِّضْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرًا حَيَاتَهُ بِالْمَدِينَةِ ، وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ سَنَةً ، قَالَ : وَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ ، لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ ، قَالَ : وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ فِي مُبْتَنَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ، أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا ، فَدَعَا الْقَوْمَ ، فَأَصَابُوا مِنَ الطَّعَامِ ، وَخَرَجُوا ، وَبَقِيَ مِنْهُمْ رَهْطٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطَالُوا الْمُكْثَ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَيْ يَخْرُجُوا ، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، ثُمَّ ظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ ، وَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ لَمْ يَقُومُوا ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ عَتْبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، فَظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ ، فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا ، فَضَرَبَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ سِتْرًا ، وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی عمر دس سال تھی۔ میری والدہ اور خالائیں وغیرہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کی ترغیب دیا کرتی تھیں۔ میں نے دس سال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی یعنی اس دوران جب آپ مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہے پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو میری عمر میں سال تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حجاب کے حکم کے بارے میں مجھے سب سے زیادہ علم ہے یہ کب نازل ہوا تھا۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ جیسے افراد مجھ سے اس بارے میں دریافت کیا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی۔ یہ اس وقت نازل ہوا تھا شادی کے اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا۔ ان لوگوں نے کھانا کھایا پھر وہ لوگ چلے گئے۔ ان میں سے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھے رہے۔ وہ کافی دیر بیٹھے رہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ تشریف لے گئے آپ کے ہمراہ میں بھی چلا گیا۔ مقصد یہ تھا وہ لوگ بھی اٹھ کے چلے جائیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے ہوئے تشریف لے گئے۔ آپ کے ساتھ میں بھی گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی چوکھٹ کے پاس پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اندازہ لگایا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے۔ آپ واپس آ گئے آپ کے ہمراہ میں بھی واپس آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے تو وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ لوگ اٹھ کر نہیں گئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔ آپ کے ہمراہ میں بھی واپس آ گیا پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے دروازے کے پاس پہنچے تو آپ نے یہ گمان کیا کہ وہ لوگ چلے گے ہوں گئے۔ آپ واپس تشریف لے گئے۔ میں بھی واپس آیا تو وہ لوگ جا چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے اور اپنے درمیان پردہ ڈلوا دیا اور اس وقت حجاب کے حکم سے متعلق آیت نازل ہوئی تھی۔