کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس علت کا بیان جس کی وجہ سے «عمرٰی» کے استعمال سے روکا گیا۔
حدیث نمبر: 5141
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلا تُعْمِرُوهَا ، فَإِنَّهُ مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ ، وَلِوَرَثَتِهِ إِذَا مَاتَ " ، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ : زَجَرَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ وَالْعُمْرَى وَالرُّقْبَى كَانَ لِعِلَّةٍ مَعْلُومَةٍ ، وَهِيَ إِبْقَاؤُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ ، لا أَنَّ اسْتِعْمَالَ هَذِهِ الأَشْيَاءِ جَائِزٌ إِذَا كَانَ طَاعَةً لا مَعْصِيَةً ، وَذَاكَ أَنَّ الصَّحَابَةَ قَطَنُوا الْمَدِينَةَ وَلا مَالَ لَهُمْ بِهَا ، فَكَرِهَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمُ الرُّقْبَى وَالْعُمْرَى إِبْقَاءً عَلَى أَمْوَالِهِمْ لِلضَّرُورَةِ الْوَاقِعَةِ الَّتِي كَانَتْ بِهِمْ ، لا أَنَّهُمَا لا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُهُمَا " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اپنے اموال اپنے پاس رکھو انہیں عمریٰ کے طور پر نہ دو کیونکہ جس شخص کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی جائے وہ اس کی زندگی میں اس کی ملکیت ہو گی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کو ملے گی۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے اور عمریٰ اور رقبیٰ کے طور پر کوئی چیز دینے سے منع کیا ہے جس کی ایک متعین علت ہے اور وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے اموال ان کے پاس رہنے دینا چاہتے تھے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے: ان تین چیزوں پر عمل کرنا جائز نہیں ہے جب کہ وہ فرمانبرداری کے کاموں میں ہو معصیت کے طور پر نہ ہو اس کی وجہ یہ ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہما نے مدینہ منورہ میں رہائش اختیار کی تھی۔ وہاں ان کے پاس کوئی زمین نہیں تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اس بات کو ناپسندیدہ قرار دیا کہ وہ رقبیٰ یا عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ ان کے اموال ان کے پاس باقی رہیں کیونکہ انہیں ان کی ضرورت تھی اس سے یہ مراد نہیں ہے۔ ان دونوں چیزوں پر عمل کرنا جائز ہی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقبى والعمرى / حدیث: 5141
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الإرواء» (1607): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5119»