کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس وضاحت کا بیان کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کو «عمرٰی» کے طور پر دے اور اپنے ورثاء کا ذکر نہ کرے تو وہ عمرٰی معمر لہ کے لیے نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 5139
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنَّمَا الْعُمْرَى الَّتِي أَجَازَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَقُولَ : " هِيَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ ، فَأَمَّا إِذَا قَالَ : هِيَ لَكَ مَا عِشْتَ ، فَإِنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى صَاحِبِهَا " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: وہ عمریٰ جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز قرار دیا ہے اس سے مراد یہ کہنا ہے: یہ تمہاری ہوئی اور تمہارے بعد تمہارے پس ماندگان کی ہوئی۔ جہاں تک یہ کہنے کا تعلق ہے: جب تک تم زندہ رہو گے یہ تمہاری ہوئی، تو پھر اس چیز کا مالک اس کو واپس لے سکتا ہے۔