کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس وضاحت کا بیان کہ «عمرٰی» میں دی گئی جائیداد واپس دینے والے کو نہیں لوٹتی، چاہے معمر لہ فوت ہی کیوں نہ ہو جائے۔
حدیث نمبر: 5137
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ ، فَإِنَّهَا لِلَّذِي أُعْطِيَهَا لا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا ، لأَنَّهُ أَعْطَى عَطِيَّةً وَقَعَتْ فِيهَا الْمَوَارِيثُ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جس شخص کو عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دی گئی وہ اس کی ملکیت ہو گی اور اس کے پسماندگان کی ہو گی کیونکہ یہ اس کی ملکیت ہے جسے دی گئی تھی جس نے دی تھی وہ اسے واپس نہیں لے سکتا کیونکہ اس نے ایک ایسا عطیہ دیا ہے جس میں وراثت کے احکام جاری ہوں گے۔ “