کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس خبر کا بیان جو صراحتاً اس بات کی تائید کرتی ہے کہ «عمرٰی» کا میراثی حق اسی کو حاصل ہوتا ہے جسے وہ دی گئی ہو، دینے والے کو نہیں۔
حدیث نمبر: 5135
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعُمْرَى لِمَنْ أُعْمِرَهَا هِيَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ ، يَرِثُهَا مَنْ يَرِثُهُ مِنْ عَقِبِهِ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” عمریٰ اس شخص کی ملکیت ہو گی، جسے عمریٰ کے طور پر دی گئی اور اس کے پس ماندگان کو ملے گی اور اس کے پس ماندگان میں سے جو شخص اس کا وارث بنتا ہے وہ عمریٰ میں بھی وارث بنے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الرقبى والعمرى / حدیث: 5135
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1607): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5113»