کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس وضاحت کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «العمرى سبيلها سبيل الميراث» سے مراد صرف وہ شخص ہے جسے عمرٰی دی گئی ہو، نہ کہ دینے والا۔
حدیث نمبر: 5134
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ بِالْمَصِّيصَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ حُجْرٍ الْمَدَرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أُعْمِرَ أَرْضًا فَهِيَ لِوَرَثَتِهِ " .
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جس شخص کو عمریٰ کے طور پر زمین دی گئی وہ اس کے ورثاء کو ملے گی۔ “