کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس بات کا بیان کہ مسلمان کو اپنے بھائی کی جائیداد کے بارے میں «رُقبٰی» (شرطِ موت پر قبضہ) کا رویہ اختیار کرنے سے روکا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 5126
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا تُرْقِبُوا أَمْوَالَكُمْ ، فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا فَهُوَ لِمَنْ أَُرْقِبَهُ " ، وَالرُّقْبَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ : هَذَا لِفُلانٍ مَا عَاشَ ، فَإِذَا مَاتَ فُلانٌ فَهُوَ لِفُلانٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں: ” اپنے اموال کو رقبیٰ نہ کرو جو شخص کوئی چیز رقبیٰ کرے تو وہ اس کی ملکیت ہو گی، جس کو اس نے رقبیٰ کی۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) رقبیٰ سے مراد یہ ہے: کوئی شخص یہ کہے: فلاں شخص جب تک زندہ رہا یہ اس کے لئے ہے تو جب وہ فلاں شخص فوت ہو گا، تو وہ فلاں کی ملکیت ہو گی۔