کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ہبہ واپس لینے کا بیان - اس وضاحت کا بیان کہ یہ زجر جو عام لفظوں میں آیا ہے، اس سے ہر ہدیہ اور ہر صدقہ مراد نہیں۔
حدیث نمبر: 5123
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، وَابْنَ عُمَرَ ، يقولان : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً أَوْ هِبَةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا ، إِلا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي عَطِيَّةً أَوْ هِبَةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا ، كَمَثَلِ الْكَلْبِ أَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ، ثُمَّ قَاءَ ، ثُمَّ عَادَ إِلَى قَيْئِهِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” کسی بھی شخص کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے جب وہ کوئی عطیہ دے یا ہبہ کرے پھر اسے واپس لے ماسوائے والد ئکے اس چیز کے بارے میں، جو اس نے اپنی اولاد کو عطیے کے طور پر دی ہو جو شخص کوئی چیز عطیہ کرے یا ہبہ کرے پھر اسے اس سے واپس لے تو اس کی مثال کتے کی مانند ہے جو کھاتا ہے تو سیر ہو جاتا ہے پھر وہ قے کر دیتا ہے پھر واپس اپنی قے کی طرف آ جاتا ہے۔ “