کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس علت (سبب) کا بیان جس کی بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «یہ چیز برِیرہ کو صدقہ میں دی گئی تھی»۔
حدیث نمبر: 5116
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلاثُ سُنَنٍ ، إِحْدَى السُّنَنِ الثَّلاثِ أَنَّهَا أُعْتِقَتْ ، فَخُيِّرَتْ فِي زَوْجِهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْبُرْمَةُ تَفُورُ بِلَحْمٍ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ خُبْزٌ وَإِدَامٌ مِنْ إِدَامِ الْبَيْتِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ أَرَ بُرْمَةً فِيهَا لَحْمٌ " ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنْ ذَاكَ لَحْمٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، وَأَنْتَ لا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بریرہ کے بارے میں تین شرعی احکام سامنے آئے جب وہ آزاد ہوئی تو اسے اس کے شوہر کے ساتھ رہنے (یا علیحدگی اختیار کرنے) کے بارے میں اختیار دیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو ہنڈیا میں گوشت پک رہا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روٹی اور گھر کا دوسرا سالن پیش کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا میں نے ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھا تھا۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم، لیکن یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا اور آپ صدقہ نہیں کھاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اس کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے تحفہ ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الهبة / حدیث: 5116
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (6/ 274): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5094»