کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس بات کا بیان کہ اگر کوئی چیز کسی محتاج کو صدقہ دی گئی تھی، پھر اسی نے وہ چیز ہدیہ میں دے دی، تو ہدیہ دینے والے کے لیے اس کا کھانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5115
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ لِلْعِتْقِ ، فَاشْتَرَطُوا وَلاءَهَا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا ، فَإِنَّمَا الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ، وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمٌ ، فَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " ، قَالَ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے بریرہ کو آزاد کرنے کے لئے اسے خریدنے کا ارادہ کیا تو اس کے مالکان نے اس کے ولاء کی شرط عائد کی۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے خرید کر اسے آزاد کر دو کیونکہ ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو حاصل ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت تحفے کے طور پر دیا گیا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یہ بریرہ کو صدقے کے طور پر دیا گیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس کے لئے صدقہ تھا اور ہمارے لئے تحفہ ہے۔ عبدالرحمن نامی راوی بیان کرتے ہیں: اس خاتون کا شوہر آزاد شخص تھا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الهبة / حدیث: 5115
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - إلاَّ قول عبد الرحمن وفي آخره؛ فإنه مدرج، والصحيح أنه كان عبدا - «الإرواء» (6/ 274 - 275). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5093»