کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس بات کا بیان کہ اگر ہدیہ بھیجنے والا شخص اپنا ہدیہ واپس لے لے جبکہ ہدیہ پانے والا وفات پا گیا ہو اور ہدیہ ابھی اس تک نہ پہنچا ہو، تو ایسا کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5114
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ حُلَّةً وَأَوَاقِيَّ مِسْكٍ ، ولا أثراهُ أَلا قَدْ مَاتَ ، وَسَتُرَدُّ الْهَدِيَّةُ ، فَإِنْ كَانَ كَذَلِكَ فَهِيَ لَكَ " ، قَالَتْ : فَكَانَ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ النَّجَاشِيُّ وَرُدَّتِ الْهَدِيَّةُ ، فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَّةَ مِسْكٍ ، وَدَفَعَ الْحُلَّةَ وَسَائِرَ الْمِسْكِ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کی تو آپ نے فرمایا میں نے نجاشی کو ایک حلہ اور مشک کے کچھ اوقیہ تحفے کے طور پر بھجوائے تھے۔ میرا خیال ہے اس کا انتقال ہو گیا ہے تو یہ تحفہ واپس آ جائے گا اگر ایسا ہی ہوا تو وہ تمہیں ملے گا۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان کرتی ہیں: پھر ویسا ہی ہوا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا تھا نجاشی کا انتقال ہو گیا تھا وہ تحفہ واپس آ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج کی طرف مشک کا ایک اوقیہ بھجوایا اور وہ حلہ اور باقی تمام مشک سیدہ ام سلمہ رضی اللہم عنہا کو دے دی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الهبة / حدیث: 5114
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «الإرواء» (1620). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5092»