کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: - اس بات کا بیان کہ ایک شخص کی طرف سے ایک مشترک ہدیہ کئی افراد کا قبول کرنا جائز ہے، اگرچہ ہر ایک کو اپنی حصہ داری معلوم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 5111
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنِ الْبَهْزِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُرِيدُ مَكَّةَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ إِذَا حِمَارٌ وَحْشِيٌّ عَقِيرٌ ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " دَعُوهُ ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ صَاحِبَهُ " ، فَجَاءَ الْبَهْزِيُّ ، وَهُوَ صَاحِبُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، شَأْنَكُمْ بِهَذَا الْحِمَارِ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ فَقَسَمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِالأُثَايَةَ بَيْنَ الرُّوَيْثَةِ وَالْعَرْجِ ، إِذَا ظَبْيٌ حَاقِفٌ فِي ظِلٍّ وَفِيهِ سَهْمٌ ، فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلا يَقِفُ عِنْدَهُ لا يَرِيبُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّى يُجَاوِزَهُ " .
سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف روانہ ہونے کے لئے نکلے یہاں تک کہ جب آپ روحاء کے مقام پر پہنچے تو وہاں ایک زیبرا تھا جس کا پاؤں کٹا ہوا تھا اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم اسے رہنے دو عنقریب اس کا مالک اس تک آ جائے گا، پھر سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ آ گئے وہ اس کے مالک تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ اس زیبرے کو استعمال کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے۔ یہاں تک کہ رویثہ اور عرج کے درمیان اثایا کے مقام پر پہنچے تو وہاں ایک سائے میں ہرن بیٹھا ہوا تھا جس کو تیر لگا ہوا تھا۔ سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ اس ہرن کے پاس ٹھہرا رہے تاکہ کوئی بھی شخص اس کو تنگ نہ کرے یہاں تک کہ وہ لوگ وہاں سے گزر جائیں۔