کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس وضاحت کا بیان کہ اگر کسی نیک اور فاضل شخص کو کوئی معمولی سا تحفہ بھی پیش کیا جائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اسے قبول کرے، اسے معمولی نہ سمجھے اور دوسروں پر احسان کرے۔
حدیث نمبر: 5110
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِ أَبِي أَيُّوبَ ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فِيهِ ثُومٌ ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ وَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ ، فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ أَبُو أَيُّوبَ ، إِذْ لَمْ يَرَ فِيهِ أَثَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَتَاهُ ، فَسَأَلَهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَحَرَامٌ هُوَ ؟ قَالَ : " لا ، وَلَكِنْ كَرِهْتُهُ مِنْ أَجْلِ الرِّيحِ " ، فَقَالَ : إِنِّي أَكْرَهُ مَا كَرِهْتَ .
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں موجود تھے۔ آپ کی خدمت میں کھانا لایا گیا جس میں لہسن تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا۔ آپ نے وہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا۔ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی اس میں سے نہیں کھایا کیونکہ انہیں اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال کا نشان نظر نہیں آیا تھا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ حرام ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں لیکن میں نے اس کی بو کی وجہ سے اسے ناپسند کیا ہے۔ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جسے آپ نے ناپسند کیا ہے اسے میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الهبة / حدیث: 5110
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2511): م - جابر بن سمرة، عن أبي أيوب: الأنصاري. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5088»