کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - پانچویں خبر کا بیان جو واضح کرتی ہے کہ اولاد کے درمیان عطیہ میں ایثار کا استعمال ترک کیا جائے۔
حدیث نمبر: 5106
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبِي نَحَلَنِي كَذَا وَكَذَا ، فَأَتَى بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ ، فَقَالَ : " أَكُلَّ وَلَدِكَ ، أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَ ؟ فَقَالَ : لا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ، هَذَا جَوْرٌ " ثُمْ قَالَ : " أَتُحِبُّونَ أَنْ يَكُونُوا فِي الْبِرِّ سَوَاءً ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَلا إِذًا " .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد نے مجھے فلاں، فلاں چیز عطیے کے طور پر دی وہ مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں گواہ بنا لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے جس طرح اسے دیا ہے۔ انہوں نے عرض کی: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری بجائے کسی اور کو گواہ بنا لو یہ ظلم ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمہاری تمام اولاد تمہارے ساتھ نیکی کرنے میں برابر ہو۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہ درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الهبة / حدیث: 5106
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3946): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5084»