کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس خبر کا بیان جو صراحتاً اولاد کے درمیان عطیہ میں ایثار کے عدمِ جواز پر دلالت کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 5102
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَعْطَاهُ غُلامًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذَا الْغُلامُ ؟ " قَالَ : غُلامٌ أَعْطَانِيهِ أَبِي ، قَالَ : " فَكُلُّ إِخْوَتِكَ أَعْطَاهُ كَمَا أَعْطَاكَ ؟ " قَالَ : لا ، قَالَ : " فَارْدُدْهُ " ، وَقَالَ لأَبِيهِ : " لا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ " .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ان کے والد نے انہیں غلام عطیے کے طور پر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا یہ کس کا غلام ہے۔ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ غلام ہے جو میرے والد نے مجھے عطا کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا انہوں نے تمہارے تمام بھائیوں کو اسی طرح عطا کیا ہے، جس طرح تمہیں عطا کیا ہے؟ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے واپس کر دو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد سے فرمایا: تم کسی زیادتی کے کام میں مجھے گواہ نہ بناؤ۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الهبة / حدیث: 5102
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5080»