کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس وضاحت کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «فارجعه» کا مطلب یہ تھا کہ یہ کام حق کے خلاف تھا۔
حدیث نمبر: 5101
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ : " انْحَلِ ابْنِي هَذَا غُلامًا ، وَأَشْهِدْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ ، يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَهُ إِخْوَةٌ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَأَعْطَيْتُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتُهُ ؟ " فَقَالَ : لا ، فَقَالَ : " لا يَصْلُحُ هَذَا ، وَإِنِّي لا أَشْهَدُ إِلا عَلَى الْحَقِّ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا بشیر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے کہا: آپ میرے اس بیٹے کو غلام عطیے کے طور پر دیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں گواہ بنا لیں، تو انہوں نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے والد سے) دریافت کیا: کیا اس کے اور بھی بھائی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے ان میں سے ہر ایک کو اسی طرح عطیہ دیا ہے، جس طرح اسے دیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ درست نہیں ہے اور میں صرف حق بات پر گواہ بنتا ہوں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الهبة / حدیث: 5101
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الإرواء» (6/ 42): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5079»