کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس لفظ کا بیان جس نے بعض اہلِ علم کو یہ وہم میں مبتلا کیا کہ اولاد کے درمیان عطیہ میں ترجیح (ایثار) جائز ہے۔
حدیث نمبر: 5100
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلامًا كَانَ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا ؟ " فَقَالَ : لا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَارْجِعْهُ " .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ان کے والد انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے انہوں نے عرض کی: میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا غلام عطیے کے طور پر دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اسے واپس لے لو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الهبة / حدیث: 5100
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (6/ 41 / 1598): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5078»