کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 5099
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ فِطْرٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ وَهُوَ يَخْطُبُ ، يَقُولُ : انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى عَطِيَّةٍ أَعْطَانِيهَا ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ بَنُونَ سِوَاهُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " سَوِّ بَيْنَهُمْ " .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے یہ بات بیان کی میرے والد مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے تاکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عطیے کے بارے میں گواہ بنا لیں جو انہوں نے مجھے دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے اس کے علاوہ اور بھی بیٹے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم ان کے درمیان برابری کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الهبة / حدیث: 5099
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5077»