کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس بات کا بیان کہ اولاد کو عطیہ (نحل) دیتے وقت سب کے درمیان برابری کا حکم ہے، کیونکہ ترکِ مساوات ظلم ہے۔
حدیث نمبر: 5098
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَيْدٍ بِفَمِ الصُّلْحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْخُرْقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى عَطِيَّةٍ يُعْطِينِيهَا ، فَقَالَ : " هَلْ لَكَ ، وَلَدٌ غَيْرَهُ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " سَوِّ بَيْنَهُمْ " .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے والد مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تشریف لے گے تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عطیے کے بارے میں گواہ بنا لیں جو انہوں نے مجھے دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہاری اس کے علاوہ اور اولاد ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر (عطیہ دینے میں) تم ان کے درمیان برابری رکھو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الهبة / حدیث: 5098
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5076»