کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اللہ جل وعلا کے اس فضل کا بیان کہ منحت دینے والے اور راستہ دکھانے والے کے لیے ایسا اجر لکھا جاتا ہے جیسے اس نے کوئی جان صدقہ میں دی ہو۔
حدیث نمبر: 5096
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُبَيْدًا الإِيَامِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً أَوْ سَقَى لَبَنًا أَوْ أَهْدَى زُقَاقًا كَانَ لَهُ عِتْقُ رَقَبَةٍ أَوْ نَسَمَةٍ " .
سیدنا براء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص (کوئی جانور) عاریت کے طور پر دیتا ہے یا دودھ پلاتا ہے یا راستے کی رہنمائی کرتا ہے تو اسے گردن (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) جان کو آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العارية / حدیث: 5096
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «تخريج المشكاة» (1917)، «التعليق الرغيب» (2/ 34 و 241). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5074»