کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - عاریت (عارے) اور منحت (عارضی عطیہ) کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 5094
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَلِيحٍ الْبَهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ حُرَيْثٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ، وَالْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ ، وَمَنْ وَجَدَ لِقْحَةً مُصَرَّاةً فَلا يَحِلُّ لَهُ صِرَارُهَا حَتَّى يُرِيَهَا " .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” عاریت کے طور پر لی ہوئی چیز واپس ادا کی جاتی ہے اور عاریت کے طور پر لیا ہوا (جانور) لوٹایا جائے گا جو شخص کوئی ایسی تھیلی پاتا ہے جس کا منہ بندھا ہوا ہو تو اس کے لئے اسے کھولنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک وہ اس کا اعلان نہیں کر دیتا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب العارية / حدیث: 5094
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (611). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5072»