کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: - اس سبب کا بیان جس کی وجہ سے اللہ جل وعلا نے آیت «وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ» نازل فرمائی۔
حدیث نمبر: 5093
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَتَى مَكَانَ كَذَا وَكَذَا ، أَوْ فَعَلَ كَذَا وَكَذَا ، فَلَهُ كَذَا وَكَذَا " ، فَتَسَارَعَ إِلَيْهِ الشُّبَّانُ وَبَقِيَ الشُّيُوخُ تَحْتَ الرَّايَاتِ ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، جَاءُوا يَطْلُبُونَ مَا قَدْ جَعَلَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمُ الأَشْيَاخُ : لا تَذْهَبُونَ بِهِ دُونَنَا ، فَإِنَّا كُنَّا رِدْءًا لَكُمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الآيَةَ : فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ سورة الأنفال آية 1 .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ب کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص فلاں اور فلاں جگہ پر جائے گا اور ایسا اور ایسا کرے گا تو اسے یہ اور یہ ملے گا، تو نوجوان لوگ تیزی سے وہاں پہنچ گئے جبکہ عمر رسیدہ لوگ باقی رہ گئے۔ وہ جھنڈوں کے نیچے ہی رہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطا کر دی تو وہ لوگ اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے آئے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے مقرر کی تھی، تو عمر رسیدہ افراد نے ان سے کہا: تم ہمیں چھوڑ کر اسے نہیں لے جا سکتے کیونکہ ہم تمہارے پشت پناہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی: ” تم اللہ سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلح / حدیث: 5093
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2445). * [فَلَهُ كَذَا، وَكَذَا] قال الشيخ: ما بين المعقوفين سقط من الأصل. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 5071»